حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کرگل،لداخ/ مرکزی نائب امامِ جمعہ کرگل، حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ طالب حسین سبحانی نے احاطہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل میں اجتماعِ نمازِ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے نمازِ جمعہ کی اہمیت، دینی و اخلاقی ذمہ داریوں، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، باہمی احترام، وحدت اور خطۂ لداخ کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ نمازِ جمعہ کو محض ایک انفرادی عبادت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے دینی شعور، اجتماعی اتحاد اور معاشرتی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ سمجھیں۔

اپنے خطبۂ اول میں مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے قرآنِ مجید کی سورۂ جمعہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے نمازِ جمعہ کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی اذان کے بعد اہلِ ایمان کو دنیاوی مشاغل، خرید و فروخت اور دیگر مصروفیات چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قرآنی تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ نمازِ جمعہ صرف ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک عظیم اجتماعی عبادت بھی ہے، جہاں اہلِ ایمان ایک جگہ جمع ہوکر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، تقویٰ اور پرہیزگاری کی تلقین سنتے ہیں، قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور اپنے معاشرے کے دینی و اجتماعی مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں۔
مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اس تعلیم کا بھی حوالہ دیا جس میں نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمازِ جمعہ میں شرکت صرف نماز کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ عبادت کے آداب، اس کی روح اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔

انہوں نے موجودہ دور کی مصروف زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسان آج کاروبار، مال و دولت، شہرت اور مختلف دنیاوی سرگرمیوں میں گھرا ہوا ہے، لیکن نمازِ جمعہ ان تمام مشاغل سے کچھ دیر کے لیے انسان کو الگ کرکے اللہ کے ذکر، عبادت اور دینی شعور کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ان کے مطابق خطبۂ جمعہ کے ذریعے نہ صرف تقویٰ، اخلاق اور دینی تعلیمات بیان کی جاتی ہیں بلکہ معاشرے کو درپیش اہم دینی، سماجی اور عوامی مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات اور اجتماعی ضروریات کو متعلقہ حکام اور انتظامیہ تک پہنچانے میں بھی منبرِ جمعہ ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے بالخصوص خطۂ لداخ میں وحدت، بھائی چارے، باہمی احترام اور اجتماعی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خطبۂ جمعہ ہمیشہ سے ان اقدار کے فروغ اور استحکام کے لیے ایک مؤثر ذریعہ رہا ہے۔
انہوں نے نمازِ جمعہ سے غفلت کو صرف ایک نماز سے محرومی قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک ایسے اجتماعی اور روحانی اجتماع سے دوری قرار دیا جو انسان کی دینی، اخلاقی اور سماجی زندگی کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خطبے کے دوران انہوں نے نمازِ جمعہ کی فضیلت سے متعلق روایات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ روایات میں نمازِ جمعہ کی طرف اٹھنے والے قدم کے لیے اجر و ثواب اور اس عبادت کی خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے فقہائے امامیہ کی جانب سے نمازِ جمعہ کی پابندی پر زور دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس عبادت کی اہمیت اور اس کے اجتماعی پہلو کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی تعلیمات کی روشنی میں جمعہ کے دن سفر اور نمازِ جمعہ کے تعلق کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ مؤمن کو بلا ضرورت ایسی مصروفیت یا سفر اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں وہ نمازِ جمعہ سے محروم ہوجائے، جبکہ شرعی عذر کی صورت میں شریعت کے احکام کے مطابق عمل کیا جانا چاہیے۔
مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے مؤمنین سے اپنی ترجیحات کا جائزہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار، روزگار اور معاشی ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم دینی فرائض اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو دنیاوی مصروفیات پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ نمازِ جمعہ انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور آخرت کی کامیابی بھی ہے۔ انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ نمازِ جمعہ کی پابندی کریں، وقت پر مسجد پہنچیں، خطبہ توجہ اور سکون سے سنیں اور اس میں بیان ہونے والی دینی و اخلاقی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی، گھروں اور معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے
خطبۂ دوم میں مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے اسلام میں انسانی حقوق، عزت و احترام اور معاشرتی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ساتھ ساتھ دوسرے انسانوں کے حقوق، عزت، سکون اور احترام کی حفاظت کی بھی تعلیم دیتا ہے۔
انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی اس معروف تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ ان کے مطابق اس تعلیم کا اطلاق آج کے دور میں صرف براہِ راست گفتگو اور عملی رویے تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے مؤمنین کو متوجہ کیا کہ سوشل میڈیا پر کچھ لکھنے، کسی چیز کو شیئر کرنے یا کسی تصویر اور ویڈیو کو آگے پھیلانے سے قبل اس کے اثرات کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ ان کے مطابق کسی شخص کا مذاق اڑانا، تحقیر کرنا، اس کی نجی زندگی یا کمزوریوں کو عام کرنا، کسی کی عزت مجروح کرنے والی تصویر یا ویڈیو کو غیر ضروری طور پر پھیلانا یا کسی کو بدنام کرنے والی بات کو وائرل کرنا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔
انہوں نے بالخصوص دعا اور عبادت جیسی مقدس چیزوں کو مذاق کا موضوع بنانے سے گریز کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دعا مؤمن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قربت کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے کسی شخص کے اندازِ دعا، عبادت یا دینی عمل کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کے ایمان، جذبات اور مذہبی احساسات کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اختلافِ رائے کے حوالے سے کہا کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو تو تہذیب، دلیل اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گفتگو کی جانی چاہیے اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے کہا کہ موجودہ دور میں گھروں، مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور بالخصوص سوشل میڈیا کے ماحول کو اخلاقی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان، قلم اور موبائل فون تینوں انسان کی ذمہ داری کا حصہ ہیں اور انسان کو اپنی کہی ہوئی بات، لکھی ہوئی تحریر اور سوشل میڈیا پر نشر کی جانے والی ہر چیز کے نتائج اور ذمہ داری کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔

لداخ میں امن، وحدت اور باہمی احترام پر زور
خطبۂ جمعہ کے دوران خطۂ لداخ کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے میں باہمی احترام، بھائی چارہ، امن، وحدت اور اجتماعی ہم آہنگی ایک مشترکہ ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک دوسرے کے حقوق اور عزت کا خیال رکھا جائے۔
کرگل میں ہائی کورٹ کے مشترکہ بینچ کا مطالبہ بھی زیرِ بحث آیا
خطبۂ دوم میں مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے کرگل میں جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے مشترکہ بینچ کے قیام سے متعلق بار ایسوسی ایشن کرگل کی جانب سے اٹھائے گئے مطالبے کی طرف بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے عوامی سطح پر قانونی اور انتظامی سہولیات کی دستیابی کو ایک اہم اجتماعی ضرورت قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات، قانونی سہولت اور انصاف تک آسان رسائی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی مسائل کو آئینی، قانونی اور پُرامن ذرائع سے اٹھایا جانا چاہیے اور ایسے تمام معاملات میں باہمی احترام، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔

ایران اور مسلم دنیا کے حوالے سے دعا
خطبے کے اختتام پر مولانا شیخ طالب حسین سبحانی نے مؤمنین سے تقویٰ، اخلاص، اتحاد، باہمی محبت اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے مراجعِ عظام، علما، طلبہ، نوجوانوں، بزرگوں اور پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے دعا کی۔
انہوں نے رہبرِ انقلاب اسلامی اور جمہوری اسلامی ایران کے لیے بھی دعا کی اور ایران کو موجودہ حالات میں کامیابی اور نصرت عطا ہونے کی دعا کی۔ انہوں نے خطۂ لداخ میں امن، وحدت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے قیام، تمام مؤمنین و مؤمنات کی جائز حاجات کی تکمیل، بیماروں کی شفایابی، محتاجوں کے لیے آسانی اور پریشان حال افراد کے لیے سکون کی دعا کی۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے امامِ عصرؑ کے ظہور میں تعجیل اور مؤمنین کو ان کے انصار و اعوان میں شامل ہونے کی دعا بھی کی۔










آپ کا تبصرہ